یہ اختر و کوکب اپنے ہیں

ڈاکٹر محمد حامد زمان

یوں تو علم و ہنر کسی ایک گروہ اور کسی ایک طبقے کی میراث نہیں مگر ہماری سماجی قوتوں کی بنا پر، اور معاشی فرقہ بندی کی بدولت، علم کی رسائی جمہور  کے لئے صحیح معنوں میں ممکن نہیں۔ خصوصاً وہ سکول جہاں بہت سے ہنر مند، مگر غریب بچے اور بچیاں، علم کی خواہش کا بستہ باندھے، اپنے یونیفارم کو محلے کی کیچڑ سے بچاتے، باپ کی سائیکل پر بیٹھے ہر روز ایک لگن سے داخل ہوتے ہیں، ان بنیادی آلات اور تجربہ گاہوں سے محروم ہیں جو کہ آج کی سائنس سے روشناس ہونے کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔  ان بچوں کا مستقبل ہمارا اپنا مستقبل ہے، مگر سماج ان کو مستقبل سدھارنے کے آلات سے دور رکھنے میں کوشاں ہے۔ سائنس کی رسائی ایک خاص طبقے تک محدود رہ گئی ہے، اور اس کا تعلق اب مشاہدے سے کم، اور جیب سے زیادہ قریب ہے۔

سائنس کے بارے میں اور بھی بہت سی غلط فہمیاں ہیں، جن سے ہمارے اہلِ مستقبل میں سائنسی علوم کا رجحان مزید کم ہو رہا ہے۔ مثلاً یہ کہ سائنس دلچسبی سے فارغ، ایک خشک مضمون ہے۔ یا پھر یہ کہ سائنس صرف تجربہ گاہوں کی ہی زینت ہے اور اگر شائق کو یہ میسر نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ یا پھر یہ کہ سائنس میں مشغول وہی لوگ ہیں جو کسی دور دراز کی تجربہ گاہ میں ایک سفید کوٹ زیبِ تن کیے، چشمہ لگائے، ڈاڑھی کھجاتے کسی بوتل میں محلول ملا کر زندگی کے شب و روز گزار رہے ہیں۔ انہی غلط فہمیوں کی بنا پر بہت سی بچیوں، اور ان کے والدین میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ سائنس لڑکوں اور مردوں کی دنیا کا نام ہے اور لڑکیوں کی اس دنیا میں جگہ محدود، بلکہ ناپید ہے۔ ایک اور غلط فہمی یہ بھی ہے کہ سائنس ایک ایسی چلتی گاڑی کا نام ہے کہ اگر زندگی کے کسی ایک حصےمیں وہ آپ سے چھوٹ گئی، تو پھر ہاتھ نہیں آئےگی، اور سائنس سے محضوض ہونے کی ایک خاص عمر ہےاس سے باہر ہوئےتو خبردار اگر سائنس کے بارے میں سوچا بھی!

ان تمام غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے تو بہت سی عمریں درکار ہیں، اور بہت سےمجنوں اور فرھاد کی ضرورت، جو علم و ہنر کی لگن میں کبھی دیوانہ وار جنگل جنگل پھریں، اور کبھی عقل کے ناخنوں کی جوئے شیر کھودیں، مگر بقول فراز، اپنے حصے کی اک شمع جلانے کی خواہش لے کر لاہور سائنس میلہ ایک پہلا قدم ہے۔ 28 اور 29 جنوری کو لاہور میں منعقد ہونے والا یہ میلہ جہاں عوام لے لئے مفت ہے، وہاں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کے میلےمیں گھر بھر کے لیے مفید اور تفریحی سرگرمیاں ہوں جن سے مشاہدہ بھی بڑھےاور سوال کرنے کی جستجو بھی۔ تجربے کا موقع بھی ہو اور تجزیےکا بھی۔ چاہے آپ معلم ہوں یا علم کے متلاشی، والدہ ہوں یا انجمنِ طفلاں کے سرگرم رکن، نائب وزیر ہوں یا نائب قاصد، یہ میلہ سبھی کے لئے ہے،اس کا مقصد اس تابناک ماضی کی جھلک بھی  ہے کہ جس نے ہمیں الخوارزمی اور ابنِ سینا دیے، اور اس مستقبل کی لگن بھی جو اس  دیس کی بچیوں  اور بچوں نے ابھی لکھنا ہے۔

علم و ہنر سے دوری کا باعث کوئی غیرملکی سازش نہیں، بلکہ ہماری اپنی سوچ اور ہماری اپنی دیواریں ہیں، کچھ دیواریں ہمارے سماج میں اور کچھ ہمارے دلوں میں ہیں۔ ہمارے مستقبل کسی ستارے کے پاس نہیں بلکہ یہ اختر و کوکب  تو سب اپنے ہیں۔

آئیں، ان ستاروں سے آگے کے جہانوں کو دیکھنے چلتے ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *